فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

طھارت / ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کو رکھنے سے جو خون آتاہے اس کا کیا حکم ہے ؟

ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کو رکھنے سے جو خون آتاہے اس کا کیا حکم ہے ؟

تاریخ شائع کریں : 2016-11-21 06:57 PM | مناظر : 584
- Aa +

سوال

ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کو رکھنے سے جو خون آتاہے اس کا کیا حکم ہے ؟

ماحکم الدم الذی یصاحب ترکیب اللولب

جواب

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کا استعمال غالب طور پر حیض کے زمانہ میں ہوتا ہے یا مہینے کے آخرمیں عورت کو جو دورہ آتاہے اس وقت ہوتاہے ۔ اگر ان اوقات میں عورت ولادت کنٹرول کرنے والے آلہ کو استعمال کرتی ہے تو یہ حیض کے حکم میں آئے گا ، جو پندرہ دن سے زیادہ نہیں ہوگا، کیونکہ اس خون کا دارومدار اصل پر ہے اور وہ حیض ہے ۔ اور اصل باقی ہوتا ہے جس پر وہ ہوتا ہے یہاں تک کہ مدت تک پہنچ جائے اور وہ مدت پندرہ دن ہے ۔ اگر اس پہلے خون رک جائے تو غسل کرے اور نماز پڑھے اگر اس نے ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کو پاکی کی حالت میں رکھا اور پھر خون نکلا تو یہ خون حیض کا نہیں ہوگابلکہ یہ دم فساد ہوگا۔کیونکہ اس کی وجہ معلوم ہے اور وہ اس آلہ کو رکھنے کی وجہ سے نکلا ہے ۔اور خون نماز سے مانع نہیں ہوگاکیونکہ یہ دم فساد ہے ۔مگر یہ کہ وہ خون حیض کا ہواس کا مطلب یہ ہے کہ ولادت کو کنٹرول کرنے والے آلہ کو رکھنا معیاد کو لاتا ہے ۔اس وجہ سے اس کے ساتھ معیاد آتاہے ۔

اگر وہ خون تھوڑا تھوڑا کرکے آات یعنی وہ خون مستقل بہنے والا نہ ہو یعنی تھوڑا سا ہو تو اس خون کا حکم دم فساد کا ہے ۔جس میں مستحب یہ ہے کہ ہر نماز کے لئے وضو کرے اگر وہ وضو نہ بھی کرے تو نماز اس کی ٹھیک ہوجائے گی ، یعنی اگر اس نے ایک ہی وضو پر اکتفاء کیااور وضو نہ توڑے اس کے علاوہ کسی اور چیزسے تو اس کی نماز ٹھیک ہے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں