×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / العقيدة / غیر اللہ کی قسم کھانا توحید کے منافی ہے

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-11-22 08:50 AM | مناظر:1752
- Aa +

سوال

کیا اللہ کے علاوہ کسی اور ذات کی قسم کھانا اللہ کی ربوبیت اور الوہیت کی نفی کرتاہے ؟ اورکیا ہر وہ بات جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے منافی ہو وہ شرکِ اکبر میں سے ہے ؟ اور اسی طرح ہر وہ بات جو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے منافی ہوشرکِ اصغر میں سے ہے ؟ البتہ اگر وہ یہ اعتقاد رکھے یا اس کوحلال سمجھے کیا یہ شرکِ اکبر بن جاتا ہے ؟ اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام سے ہٹ کر حکم دینا

الحلف بغیر اللہ ینافی توحید الالوھیۃ

جواب

اس کا تعلق الوہیت یعنی (اللہ کااکیلے تن تنہا ) ہونے سے ہے کیونکہ اس میں غیراللہ کی قسم کھانے سے اس کی تعظیم لازم آتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی تعظیم کے لائق ہے اور یہی توحید کے حقوق میں سے ہے۔ پس اگر قسم کھانے والا غیراللہ کی اس طرح تعظیم کرے جو اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان ہو تو یہ شرکِ اکبرہے اور باتفاق علمائے اسلا م یہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ ہاں اگر وہ اللہ کی طرح تعظیم نہ کرے تو یہ شرکِ اصغرہے ۔اور اس کی دلیل امام احمد (۵۳۲۵) اور ترمذی (۱۵۳۵) اور ابوداؤد(۳۵۲۵) کی حدیث میں ہے ، حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:’’جس نے غیراللہ کی قسم کھائی تو اس نے کفر یا شرک کیا‘‘۔اور امام احمد وابوداؤدرحمہمااللہ کی روایت میں (فقد أشرک) یعنی یقینا اس نے شرک کیا کے الفاظ ہیں ۔اور جہاں تک اللہ کی شریعت سے ہٹ کر حکم لگانے کی بات ہے تو اس کی دوقسمیں ہیں : (۱) ربوبیت کی خلاف ورزی کرنا(۲) الوہیت کی خلاف ورزی کرنا۔ پس جس کا تعلق کسی چیز کو شریعت اور سنت کا حصہ قرار دینا جو اللہ کے حکم کے خلاف ہوتو یہ ربوبیت میں شرک اور خلاف ورزی ہے ۔ جیسا کہ ارشادباری تعالیٰ ہے: (ترجمہ) ’’انہوں نے اللہ کی بجائے احبار (یہودی علماء) اور رہبان (عیسائی درویش) کو خدا بنالیا‘‘(التوبہ:۳۱)اور جس کا تعلق ان احکام شریعت اور خلاف ورزیوں کی فرمانبرداری سے ہو تو یہ الوہیت میں شرک ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے : (ترجمہ) ’’ کیا ان کافروں کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین طے کردیا ہے جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی۔ (الشوریٰ:۲۱) اس کے علاوہ دونوں (الوہیت و ربوبیت ) کی خلاف ورزی کا حکم درجات کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے اگر کوئی اللہ کے سوا کسی اور کوخالق مانے یا اس کی عبادت کرے تو یہ شرک اکبر ہے اور شر ک اصغر ان امور کے وسیلے کو کہتے ہیں ۔ واللہ الموفق۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

15/02/1425هـ

 


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں