×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / طھارت / قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-11-28 06:01 PM | مناظر:1517
- Aa +

سوال

قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے کا کیا حکم ہے ؟

حكم استقبال القبلة أثناء قضاء الحاجة

جواب

حامداََ ومصلیاََ

امابعد

یہ مسئلہ اختلافی ہے اور اسی کی طرف حضرت شیخ ؒ کا رجحان ہے ،باقی بات یہ ہے کہ آبادی وغیرہ میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس میں جو نہی وارد ہوئی ہے وہ نہی تنزیہی ہے اور اسی کے بار ے میں اہل علم کی ایک جماعت نے کہا ہے لیکن جو بات اس سے مانع ہے وہ یہ کہ نہی پہلے تو عام وارد ہوئی پھر اس کا جواز متعین صورتوں میں وارد ہوا لہٰذا نصوص کو جمع کرنے کے لئے اسی پر انحصار ہوگا۔ واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

28/03/1425هـ


سب سے زیادہ دیکھا گیا

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں