فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نماز / نماز گاہ کو ڈانسنگ ہال کی طرح استعمال کرنے کا حکم

نماز گاہ کو ڈانسنگ ہال کی طرح استعمال کرنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-01-09 07:09 PM | مناظر : 998
- Aa +

سوال

ہم چند طلباء ہیں جو شہرِ بکین میں پڑھتے ہیں اور ایک ایسے اسلامی سفارت خانہ میں ہم نمازِ جمعہ کے لئے جاتے ہیں جہاں اس سفارت خانہ نے ایسا ہال خاص کیا ہے جس میں نمازِ جمعہ ادا کی جاتی ہے ، ایک دفعہ ایک طالب علم نماز ِ عصر ادا کرنے کے لئے اس سفارت خانہ میں گیا جو اس ہال سے قریب تھا ، وضو کرنے کے بعد جب وہ اندر ہال میں گیا تو اس ہال کے اندر چند لڑکیوں کو فل والیم میوزک سنتے اورناچتے ہوئے پایا: جب اس طالب علم نے(وہاں لوگوں سے) پوچھا کہ کیا یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں نمازِ جمعہ ادا کی جاتی ہے تو جواب میں انہوں نے کہاکہ اس جگہ باقی نمازیں نہیں پڑھی جاتیں بلکہ یہ جگہ صرف نمازِ جمعہ کے لئے مخصوص ہے باقی دنوں میں کبھی تو کسی کو موسیقی سنتے ہوئے پاؤگے کبھی ناچتے ہوئے اور کبھی کھاتے پیتے ہوئے ، (اب سوال یہ ہے کہ ) کیا ایسی جگہ میں نماز پڑھنا جائزہے خاص کر جب صرف وہی ایک جگہ ہو جہاں ہم عربی میں خطبہ سن سکتے ہوں؟ مصلى يستخدم كمرقص فما الحكم؟

جواب

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

جہاں تک میرا خیا ل ہے اگر آپ کو اس سے کوئی افضل جگہ نہ ملے تو ایسے ہال میں نماز پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس لئے کہ یہ شرطِ نماز میں سے نہیں ہے کہ نماز صرف ایسی جگہ ادا کی جائے جہاں اللہ کی نافرمانی نہ کی جاتی ہو ، صحابہ کرام ؓ میں سے تو ایک جماعت گرجا گھروں میں بھی نمازپڑھنے کے جواز کی قائل تھی جبکہ ایسی جگہوں میں اللہ کے ساتھ کتنا بڑاکفر و شرک کیا جاتا ہے ۔لہٰذا ہر ایسی جگہ میں نماز پڑھنا جائز ہے جب تک اس جگہ میں نماز پڑھنے کی حرمت پر کوئی دلیل ثابت نہ ہو اور اس پر اما م بخاریؒ کی حدیث (۳۳۵)  اور اما م مسلمؒ کی حدیث (۵۱۳) دال ہے جس کو انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کی ہے کہ آپنے ارشاد فرمایا :’’اور میر ے لئے مسجد کو سجدہ گاہ اور پاکیزہ بنا دی گئی ہے لہٰذا میری امت میں سے جو بھی نماز کا وقت پائے تو وہ نما ز ادا کرے ‘‘۔ یہ امام بخاریؒ کے نقل کردہ الفاظ تھے اور امام مسلم ؒ کے نقل کردہ الفاظ یہ ہیں کہ :’’ جو شخص بھی نماز کا وقت پائے تو وہ جہاں نماز پڑھے پڑھ لے ‘‘۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

28/12/1424هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں