فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نماز / بارش میں نمازوں کو جمع کرنا

بارش میں نمازوں کو جمع کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-01-10 02:07 PM | مناظر : 1588
- Aa +

سوال

ایسی نماز کی جگہ (یعنی کام کی جگہ جو مصلیٰ ہوتا ہے)جہاں فرائض نہیں پڑھے جاتے وہاں پر بارش کے وقت نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟

حكم الجمع في المطر

جواب

بارش کے وقت نمازوں کو جمع کیا سکتا ہے جب مشقت اور حرج میں پڑنے کا اندیشہ ہو، جیسا کہ امام مسلم نے عبداللہ بن عمرؓ کی روایت نقل کی ہے کہ آپ نے ظہر اور عصر کی نماز کو جمع کر کے پڑھی اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا کیااور وہ وقت نہ سفر کا تھا نہ کسی خوف کا پھر جب ان سے پوچھا گیا : ایسا کیوں کیا ہے؟ فرمایا: تاکہ میری امت حرج میں نہ پڑے(۷۰۵)۔ اور اس روایت کو امام مالک ؒ نے بھی نقل کیا ہے پھر انہوں نے فرمایا: میرے خیال سے یہ بارش کا واقعہ تھا(۳۳۲)۔اب جو لوگ کام کی جگہ بنے ہوئے مصلیٰ میں نماز پڑھتے ہیں اگر یہ عصر تک وہاں ٹھرتے ہے تو ان کے لئے جمع کرنا جائز نہیں کیونکہ ان کے لئے ہرنماز کو اپنے وقت میں ادا کرنا کوئی مشکل نہیں ، اور اگر یہ عصر سے پہلے وہاں سے نکلتے ہیں اور عصر کی نماز کے لئے واپس آنے میں ان کے لئے مشقت ہے یا اس بات کا ڈر ہے کہ عصر میں جماعت پڑھنے والا نہیں ملے گا تو پھر ان کے لئے جمع کرنا جائز ہے۔یہ اہل علم کے دو اقوال میں سے صحیح قول ہے اور امام احمد ؒ کا بھی یہی مذہب ہے اور جمع بین صلوٰتین میں سب سے اوسع مذہب انہی کا ہے۔واللہ اعلم

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

12/01/1425هـ

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں