فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / میڈیکل میں تدریب اور مہارت کے لئے مریض کی شرمگاہ منکشف کرنا

میڈیکل میں تدریب اور مہارت کے لئے مریض کی شرمگاہ منکشف کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-02-15 12:55 PM | مناظر : 567
- Aa +

سوال

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ کیا میدیکل کے طالبعلم کے لئے بقصدِ تدریب مریض کی شرمگاہ کی رسائی جائز ہے جبکہ جنس بھی مختلف ہو یا پھر ایسی حالت ہو کہ جنس بھی ایک ہی ہو؟ اور کیا یہ ضرورت میں شامل ہے کہ معالج کے حکم کی طرح اس کا بھی حکم ہو؟ امید کرتا ہوں آپ تسلی بخش جواب دینگے۔ اللہ آپ کی زندگی میں برکت دے

اطلاع الطبيب المتدرب على عورة المريض

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

مریض کے حق مین تو یہ بلا شبہ ضرورت نہیں کیونکہ اس کی ضرورت تو علاج کرنے والے ڈاکٹر کے دیکھنے سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔ اور جہاں تک طالبعلموں کی تدریب کا تعلق ہے تو کشفِ ستر سے استغناء بھی ممکن اس صورت میں کہ تدریب کے دوسرے وسائل اختیار کر لئے جائیں۔ ایسے وسائل سے شرمگاہ کھولنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور خاص طور پر میڈیکل کے مجال میں تو شرمگاہ کے معائنہ میں بڑا غور و تدبر کرنا پڑتا ہے اور مختلف زاویوں سے مشاہدہ ہوتا ہے۔ اور جدید ٹیکنالوجی نے تو ایسی ایجادات فراہم کی ہیں جو تدریب کے میدان میں کشفِ عورۃ یعنی شرمگاہ کے کھولنے سے مستغنی کر دیتی ہیں لہٰذا اس کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور یہ تمام تفصیل جس میں عدمِ جواز ہے یہ ایسی صورت میں ہے جب کشفِ عورۃ سے مقصود صرف مشاہدہ کرنا ہو۔ اور جہاں تک ایسی صورت کا تعلق ہے جہاں مقصود یہ ہو کہ تدریب حاصل کرنے والا شخص اپنے ماہر استاد کی زیرِ نگرانی تشخیص اور تفصیلی معائنہ کرے تو اس بارے میں یہی راجع معلوم ہوتا ہے کہ یہ جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں مگر یہ واجب ہوگا کہ جس حد تک مقصود حاصل ہو جائے اس سے زیادہ کشف نہ کیا جائے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

9 /11/ 1428هـ

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں