فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / کیا شبِ برأت کی کوئی خاص فضیلت ہے؟

کیا شبِ برأت کی کوئی خاص فضیلت ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-02-23 09:45 AM | مناظر : 596
- Aa +

سوال

محترم جناب ! ہمیں بیشتر احادیث میں شبِ برأت کی فضائل دیکھنے کو ملے ہیں ، کیا اس رات کی کوئی خاص فضیلت بھی ہے؟

جزاکم اللہ خیراََ هل لليلة النصف من شعبان فضيلة خاصة؟

جواب

اما بعد۔۔۔

شبِ برأت کی فضیلت میں اختلاف کے اعتبار سے اہلِ علم کے دو اقوال ہیں۔

پہلا قول: کہ اس شب کی اپنی کوئی مخصوص فضیلت نہیں ہے، اور نہ ہی عبادات میں اس کو کسی خاص چیز کے ساتھ مخصوص کرنا مشروع ہے۔ متقدمین اور متأخرین میں سے جمہور علماء کا یہی مذہب ہے جن میں عطاء ابن ابی رباح ، ابن ابی ملیکہ ، عبدالرحمان بن زید، امام مالک اور امام شافعی رحمھم اللہ سرِ فہرست ہیں۔

دوسرا قول: یہ ہے کہ اس شب کی ایسی خاص فضیلت ہے جو اس شب کا اہتمام کرنے اور اس کی عظمت کرنے کو واجب قرار دیتی ہے۔ یہ خالد بن معدان ، مکحول اور لقمان بن عامر رحمھم اللہ کا مذہب ہے اور یہی احناف کا بھی مذہب ہے اور ان کے ہاں یہ مستحب ہے کہ اس کو انفرادی طور پر عبادت سے زندہ کیا جائے۔

اور جہا ں تک میری بات ہے تو مجھے ان دونوں اقوال میں جمہور کا قول زیادہ راجح لگ رہا ہے اور وہ یہ کہ اس شب کی اپنی کوئی خاص فضیلت نہیں ہے، اس لئے کہ احادیثِ نبویہ میں اس کی فضیلت کے متعلق کچھ بھی وارد نہیں ہوا، اور یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ فضائلِ شرعیہ اور خصائصِ قدریہ کو ثابت کرنے کے لئے نص کا ہونا لازمی اور ناگزیر ہے۔ باقی یہ حدیث جو ہر عام و خاص کی زباں پر ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ اس شب کو اہلِ زمین کی طرف متوجہ ہو کر شرک اور بغض رکھنے والے کے سِوا اپنے تمام بندوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں‘‘۔ تو ماہرینِ حدیث ایسی وارد شدہ ہر حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔

 اور اللہ تعالیٰ کا یہ فضلِ عام تو ہر پیر اور جمعرات کی شب ہوتا ہے کہ ان دونوں دنوں میں اعمال پیش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ مشرک اور بغض رکھنے والے کے سِوا سب کے تمام گناہوں کی بخشش فرما دیتے ہیں۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ: ’’ہر جمعرات اور پیر کی شب بندوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان دونوں دنوں میں ہر ایک کی مغفرت فرما دیتے ہیں سِوائے اس شخص کے جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہو اور اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بغض رکھتا ہو لہٰذا کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کا معاملہ مؤخر کرو یہاں تک کہ یہ دونوں آپس میں صلح کرلیں‘‘۔

اور اس طرح لوگوں میں یہ بھی مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ پندرہ شعبان کی شب قزاقِ أجل کو اگلے سال میں مرنے والے تمام انسانوں کی روحوں کو قبض کرنے کا حکم دیتے ہیں اور یہ کہ ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک جینے مرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ان جیسی جتنی بھی احادیث ہیں سب ضعیف ہیں اور اس سے استدلال کرنا درست نہیں ہے۔

باقی ابنِ ماجہ ؒ نے جو حضرت علی ؓ سے حدیث روایت کی ہے کہ اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا:’’جب پندرہ شعبان کی شب ہو تم اس شب کو قیام کرواور اس کے دن میں روزہ رکھو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس شب کے آفتاب ڈھلنے کے بعد آسمانِ دنیا پر جلوہ افروز ہو کر نداء دیتے ہیں کہ ہے کوئی گناہوں کی بخشش مانگنے والا جس کی میں بخشش کروں؟ ہے کوئی روزی طلب کرنے والاجسے روزی عطاء کروں؟ ہے کوئی مصیبتوں میں گرفتار جس کی مصیبت دور کروں؟وغیرہ وغیرہ، اور یہ سلسلہ طلوعِ فجر تک چلتا ہے‘‘۔ یہ ایک انتہائی ضعیف روایت ہے جس پر اعتماد درست نہیں ہے۔

باقی جو پیچھے گزر گیا اس سے یہی آشکار ہو رہا ہے کہ پندرہ شعبان کی نہ تو تقدیر کے اعتبار سے کوئی فضیلت ہے اور نہ ہی شریعت کے اعتبار سے۔

اور جو پندرہ شعبان کی فضیلت کا قائل ہے اس کو چاہئے کہ اس کے پاس جو واردشدہ فضیلت ہے اسی پر اکتفاء کرے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د خالد المصلح

14 / 8 / 1437هـ

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں