فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / رگ میں لگنے والے انجکشن روزے کی حالت میں لگواناکا حکم

رگ میں لگنے والے انجکشن روزے کی حالت میں لگواناکا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-02-27 12:37 PM | مناظر : 714
- Aa +

سوال

محترم جناب! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ۔۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ جب رگ میں انجکشن لگوایا جاتا ہے تو اس کے ساتھ تھوڑاساپانی بھی ملایاجاتاہے تاکہ جلد ی سے اس انجکشن کوجسم میں پہنچایا جائے توکیااس کوروزہ توڑدینے والی چیزوں میں سے شمار کیا جاتا ہے ؟

الحقنة الوريدية للصائم

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔۔

اما بعد۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔۔

جمہور معاصر علماء کے نزدیک رگ میں ٹیکہ لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ،اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ر گ کے ذریعے دوا پہنچانا یہ کوئی کھانا پینا نہیں ہے اورنہ ان کے معنی میں ہے ۔اور اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی واضح دلیل نہ آجائے اس وقت تک ہم روزے کی صحت کاحکم ہی لگائے گے اور یہاں کوئی صحیح دلیل نہیں کہ جس سے روزے کے افطار کاحکم ہم لگائے ۔

بہرحال جوآپ نے ذکر کیا کہ انجکشن کااثر پہنچانے کے لئے کوئی پانی وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے تواس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پیچھے ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ کھانے پینے کے حکم میں نہیں ہے اوراصل یہ ہے کہ روزہ درست ہو یہ مذکورہ توایک وجہ ہوئی ۔اورا س کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جو پانی کااستعمال ان ٹیکوں میں ہورہا ہے تو وہ انتہائی کم مقدار میں ہے جس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔اوراس کی مثال یوں ہے کہ جیسے بندہ وضو میں کلی کرے اور تھوڑا سا پانی منہ میں رہ جائے اور یہ بات تو سب مانتے ہیں کہ کلی سے بچے ہوئے پانی سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ یہ انتہائی تھوڑا اورغیر مقصود ہوتا ہے۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

19/10/1428ھ

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں