فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

تاریخ شائع کریں : 2017-02-28 12:25 PM | مناظر : 622
- Aa +

سوال

شوال کے چھ روزے آج کل کے اہم کاموں میں سے ہےجن کا ہرانسان بہت اہتمام کرتا ہے۔ تو ہم شوال کے چھ روزوں کی فضیلت کے متعلق بات کرینگے۔ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان چھ دنوں کوالگ الگ کیا جائے روزہ رکھنے میں یا بعض عورتوں کو یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ ان پر رمضان کے بعد ابھی تک کچھ روزوں کی قضآ باقی ہوتی ہے۔ تو کیا وہ پہلے شوال کے چھ روزے رکھے یا پھراپنے قضا روزے رمضان کے رکھے؟

فضيلة صيام أيام الست من شوال

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ تعالی کی توفیق سے جواب دیتے ہوے ہم عرض کرتے ہے کہ

جہاں تک شوال کے چھ روزوں کی فضیلت کی بات ہے توجمھورعلماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ رمضان کے بعد یہ چھ روزے وہ ہے جن کو نبیﷺ نے پسند فرمایا۔ اوریہ اس حدیث میں ہےجس کوامام مسلم ؒ نےحضرت ابوایوب انصاریؓ کی حوالےسے نقل کیا کہ نبیﷺ نے فرمایا:"جس نےرمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھےتویہ ایسا ہے کہ جیسا کے اس نےساری زندگی روزے رکھے"- اورساری زندگی روزہ رکھنے کا مطلب یہ ہےکہ ساراسال۔ اوریہ وہی بات ہےجوسنن ابن ماجہ وغیرہ میں آئی ہے: (کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ رمضان کے تیس دن دس مہیںوں کے برابر ہے)۔ اورچھ دن باقی مہینوں کےبرابرہوںگے، کیونکہ ایک نیکی دس کےبرابرہے۔ اوریہ اس بات پردلیل ہے کہ رمضان کے روزے رکھنا اوراسکے ساتھ شوال کےچھ روزے رکھنا یہ پورا سال هوجائے گا، لہذا ان دنوں کی فضیلت نبیﷺ کی حدیث سے ثابت ہوئی۔

اوربعض اہل علم اس حدیث کوضعیف قراردیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ یہ نبیﷺ کے فعل سے ثابت نہیں تو میں کہتا ہوں کہ نیک اعمال کےلئے ضروری نہیں کہ وہ آپﷺ کے فعل سےثابت ہو، اور اگرآپﷺ کےقول سےثابت ہوجائےتواتنا ثبوت سنت اورشریعت کا حکم بننےکے لئے کافی ہے۔

 اور امام مالک ؒ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ مکروہ ہے ان چھ روزوں کا رکھنا، کیونکہ اس پر اہل مدینہ کاعمل نہیں لیکن یہ بات مخالف ہے جمہور اہل علم کے۔ اور اس کےبھی مخالف ہے جس پر حضرت ابوایوب انصاری ؓ کی حدیث دلالت کرتی ہے۔ اورجوانہوں نے یہ کہا ہے کہ اس حدیث کی سند میں ضعف ہے تو یہ بعض اہل حدیث کا قول ہےلیکن درحقیقت یہ امام مسلم ؒ کی حدیث ہے جو کہ صحیح ہے اوراس کے متابع بھی موجود ہے، جواس کو مضبوط کرتی ہے اور اس کوقوت دیتی ہےاور تائید کرتی ہے۔ چناچہ یہ حدیث ان چھ روزوں کی فضیلت میں ثابت ہے۔

اور یہ چھ روزے ہر اس بندے کومل جائیں گے جو اس کوشوال میں رکھے خواہ متفرق طورپر رکھے یا پے درپے رکھے۔ لیکن اہل علم نے اس بات کومستحب قرار دیا ہے کہ عید کے بعد فوری ان کورکھا جائے یعنی عید کے دوسرے دن ان کوشروع کیا جائے تاکہ مکمل طور سے اتباع محقق ہوجائے۔ کیونکہ فرمان اس طرح ہے کہ {جورمضان کے روزے رکھے اور اس کے فورا بعد شوال کے روزے رکھے} لہذا اتباع کامل اس صورت میں تب ہوگی جب وہ  دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں، چھٹے اورساتویں کوروزہ رکھے تو اس کے روزے ساتویں کوختم ہوجائنگے۔ لیکن اگر متفرق روزے رکھے تب بھی اس میں گنجائش ہے۔

اورآپ نے اس طرف اشارہ کیا کہ بعض اہل علم نے اس حدیث کوضعیف قراردیا ہے کیونکہ اس کے بعض رجال ضعیف ہیں۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ اس حدیث کے کئی متابعات ہیں اورمسلم ؒ نےاس حدیث کواپنی صحیح کتاب میں نقل کیا ہے۔ اوریہ بات بھی صحیح ہے کہ جو حدیث مسلم میں آئی ہے جمہورمحدثین نے اس حدیث میں نقد کیضرورت ہی نہیں سمجھی اگرچہ بعض احادیث مسلم میں قابل  نقد ہے۔ اور یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن جہاں تک اس حدیث کی بات ہے تو اس پر جونقد بیان کی گئی ہےنہ وہ درست ہےاور نہ مضبوط ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کے کئی متابعات ہیں جواس کوقوت دیتی ہیں پس یہ حدیث ثابت ہے اور یہی جمہور اہل علم کامذہب ہے۔

اور جو اس روزے  کوجائز نہیں سمجھتا تو یہ بھی ایک قول ہے اورمیں نے اس پروگرام کے اس قسط کی ابتدا ہی میں ذکر کیا کہ امام مالک ؒ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ اس بات کو دلیل بناتے ہوے کہ اس پراہل مدینہ کاعمل نہیں۔

نبیﷺ سے تو اس طرح منقول نہیں کہ آپ نے رروزہ رکھا ہو لیکن فعل کا ہونا سنت کےثبوت کے لئےکافی ہے۔ اوراس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبیﷺ نےاس فعل کوخود کیا ہو، کیونکہ بہت سے کام فعل سے ثابت ہوتےہیں اوربہت سے آپ کےقول سے۔ پس قول اورفعل دونوں نبیﷺ کی سنت ہے اور یہ تمام اللہ کےاس فرمان میں داخل ہے:"تحقیق آپ کے لئے نبیﷺ کی زندگی میں ایک بہترین نمونہ ہے"- ﴿لاحزاب ۔۲۱) اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ فعل کاثبوت بھی ہو۔

اور باقی رہا پے درپے روزے رکھنے کا مسئلہ تو ہم نے عرض کیا کہ پے درپے روزے رکھنا ضروری نہیں ہے اور جائز ہے کے یہ روزے الگ الگ رکھے۔

اور باقی رہا قضا کامسئلہ: کیا قضا کوپورا کرنا ضروری ہے؟ یعنی چھ روزوں سے پہلے ان بقیہ روزوں کو جو رہ گئے ہیں پورا کرانا ضروری ہے؟ یہ ایک سوال ہے جو اکثرہوتا ہے اوراکثرعورتیں یہ کرتی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ انکو جو عارض پیش آتا ہے وہ یہ ہےکہ ان کاروزہ حیض کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے۔ تو ان کے لئے مہیںہ بعض اوقات تنگ ہوجاتا ہے۔ اسباب کو نظرانداز کرتے ہوۓ۔

اس مسئلہ میں علماء کے دوقول ہیں۔ شوال کے چھ روزوں سے پہلےقضا روزوں سےشروع کرنا۔ کیا یہ ضرورری ہےکہ شوال کے چھ روزوں کی فضیلت تب حاصل ہوگی جب رمضان کے روزوں کی ادا اورقضا سے فارغ ہوجائے۔ ادا میں توکوئی شک نہیں البتہ جو قضا کی بات ہے تو اس مسئلہ میں علما کے دوقول ہیں۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ضروری ہے کہ پورے رمضان سے فارغ ہوجائے کیونکہ حدیث میں اتا ہے کہ {جس نے رمضان کاروزہ رکھا}۔ اورجس کے ذمے رمضان کےروزے  ابھی تک باقی ہوتواس کے روزے کامل نہیں ہوئے اور نبیﷺ ان چھ دنوں کی فضیلت کی بنیاد رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا فرمایا ہے اوراس بنیاد کے لحاظ سےلازم ہےکہ پہلےرمضان کےمکملروزے رکھے اور اپھر اس کے بعد قضا کرے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے۔

اوربعض بہنیں یہ عذر پیش کرتی ہے کہ مجھے پورے مہینے سے عذر ہے جیسے کہ اگر وہ نفاس میں ہو۔  تواس حالت میں  وہ کیا کرے؟ اسی قول کو دیکھ کر وہ یہ کہتے ہیں کہ قضا کرے اورجب وہ قضا سے فارغ ہوتو اس کے بعد چھ روزے رکھے اگر چہ ذوالقعدہ میں ہو کیونکہ یہ معذورہ ہے اس لئے کہ شوال میں تو وہ اس سنت پر عمل کرنے پرقادر نہیں تھی کیونکہ وہ اپنے ذمے قضا روزے پورے کررہی تھی یہ وہ پہلا قول ہے اس مسئلہ میں۔

دوسرا قول : یہ ہے کہ جائز ہے کہ قضا سے پہلے چھ روزے رکھے اور یہ اس وجہ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا: (جس نے رمضان کا روزہ رکھا اس کے بعد شوال کےچھ روزے رکھے) اور اس کے حق میں اتنا تو ثابت ہو گیا کہ اس نے رمضان کا روزہ رکھا۔ تو مثال کے طورپر جس نے پچیس روزے رکھے اورعذرکی بنا پر پانچ دن افطار کیا تو کیا پھر بھی کہا جائےگا کہ اس نےرمضان کا روزہ رکھ لیا، ہاں۔ بلکل یہی کہا جائے گا کہ اس نے رمضان کا روزہ رکھ لیا کیونکہ نبیﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ جس نے پورے رمضان کا روزہ رکھا اوریہ بھی نہیں فرمایا کہ جس نےرمضان کےروزے رکھےاوراسکے ذمہ رمضان کے روزوں میں سےکچھ باقی نہیںرہا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے۔ اوریہ جملہ ہر اس شخص پر صادق آتا ہے جو رمضان  کے روزے رکھتےہےاگرچہ وہ عذر کیوجہ سے پورے روزے نہ رکھ سکا ہوتوپھربھی اس کویہ فضیلت حاصل ہوجائےگی لہذا چھ روزوں والی فضیلت حاصل کرنے کے لیے لازم نہیں کہ وہ پہلے قضاء روزے رکھے۔

اوراس مسئلہ میں راجح دوسراقول ہےکہ فضیلت ہر اس بندےکو حاصل ہوجاتی ہے جویہ چھ روزے رکھےاگر چہ ذمے میں قضاءبھی ہویعنی اگرچہ قضاءوالے روزے بعد میں رکھےاور یہی دونوں قولوں میں صحیح ہونےکےزیادہ قریب ہے اورجیسےکے میں نے پہلے ذکر کیا یہ مسئلہ مختلف فی ہے۔ اوراختلاف دراصل اس سے پہلے اس مسئلہ میں ہے کہ قضاءپورا کرنے سےپہلے نفل بجا لانا صحیح ہےیا نہیں؟ اصل مسئلہ یہ ہےاوراسی پرایک دوسرامسئلہ متفرع ہوتاہےاوروہ یہ چھ روزے رکھنے والا مسئلہ ہے اگر ہم اس قول کوراجح سمجھے کہ نفل کوقضا سے پہلے بجالانا صحیح ہے۔ جیساکہ جمہورکاقول ہے،کہ کیا فضیلت حاصل کرنے کے لیے پہلے قضاء کرنا شرط ہے اور اسکے بعد چھ روزے رکھے؟تواس میں دوقول ہیں اور صحیح یہ ہےکہ قضاء سے پہلے یہ چھ روزے رکھےجاسکتے ہیں۔

لیکن میں اپنے بھائیوں کویہ کہنا چاہتا ہوں کہ بہتر یہی ہے کہ ابتداءقضاءوالے روزوں سے کرے،اور یہی افضل واحسن ہے کیونکہ اس سے ذمہ بری ہوجاتاہے اوراس طریقہ سے ذمہ جلد فارغ ہوجاتا ہے اوروہ فضیلت جوحدیث میں مذکور ہےاس کوحاصل کرنے کے زیادہ قریب ہے۔

لہذا جواب کاخلاصہ یہ ہے کہ اس شوال کے روزوں والے مسئلہ میں قضاءروزوں سے پہلے شوال کے چھ روزے رکھ سکتاہے۔ دونوں اقوال میں سے راجح قول کے مطابق۔

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں