فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / عورتوں کے ناچنے کا حکم

عورتوں کے ناچنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-03-21 06:33 PM | مناظر : 1087
- Aa +

سوال

فضلیتِ مآب عورتوں کے ناچنے کا کیا حکم ہے ؟

حكم الرقص للنساء

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

اس میں حنابلہ ، بعض شوافع اور مالکیہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر رقص حرام گانے ، کشفِ عورات اور شہوت انگیز عشوہ وغمزہ اور ناز و ادا سے محفوظ رہے تو پھر یہ مکروہ ہے ۔

امام شافعی کا اس بارے میں یہ مذہب ہے کہ اگر وہ رقص محرمات سے خالی ہوتو پھر یہ مباح و جائز ہے ۔

اور اس میں تیسرا قول جو کہ احناف اورمالکیہ کی طرف منسوب ہے وہ یہ ہے کہ رقص سراسر حرام ہے ، لیکن یہ قول بظاہر دقیق نہیں ہے ، اس لئے کہ احناف اور مالکیہ نے جس رقص پر حرام کا فتوی دیا ہے اس سے مراد وہ رقص ہے جسے رقص کرنے والے بطورِ عبادت اور قربِ الٰہی کے کرتے ہیں ، اور اس قسم کے رقص پر تو تمام اہلِ علم نے حرمت کا فتوی دیا ہے ۔

اور ان میں سے ہر فریق کے پاس اپنے اپنے دلائل موجود ہیں ۔ لیکن جہاں تک میری بات ہے تو مجھے أقرب الی الصواب قول یہی لگ رہا ہے کہ رقص اصل میں مکروہ ہے ، جیسا کہ اما م احمد ؒ نے حدیث نمبر (۱۶۶۶۲) اور امام ترمذیؒ نے حدیث نمبر(۵۱۶۱) میں حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت کیا ہے کہ آپنے ارشادفرمایا: ’’جس چیز سے بھی مسلمان غفلت میں پڑے وہ باطل ہے سوائے تیراندازی ، گھڑ سواری اور بیوی کے ساتھ چھیڑ خوانی کے ، اس لئے کہ یہ سب کام حق ہیں ‘‘۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی ؒ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں :  ’’یہ حدیث حسن اور صحیح ہے ‘‘ ۔ اور یہ حدیث عبداللہ بن ازرق کی روایت کردہ ہے ، اور اس راوی کو صرف ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اسی لئے تو ابن حزم نے (محلی: ۵۵/۹) میں اس بارے میں فرمایا ہے کہ یہ راوی مجہول ہے ۔ یہ حدیث اور بھی کئی طرق سے مروی ہے جو اس کو تقویت دیتی ہیں ، ان طرق میں امام نسائی ؒ نے سننِ کبریٰ  (۸۹۳۸) میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے طریق سے مرفوعاََ روایت نقل کی ہے : ’’ہر وہ چیز جویادِ الٰہی سے خالی ہوتو وہ لہو ولعب ہے سوائے چارکاموں کے : بیوی کے ساتھ ملاعبت و چھیڑ خوانی کے ،اپنے گھوڑے کی تادیب کرنے کے ،آدمی کے دو غرضو ں کے درمیان چلنے کے ،اور آدمی کا تیراکی سیکھنے کے ‘‘۔

اس روایت کے متعلق حافظ بن حجر عسقلانیؒ نے اصابہ (۴۳۹/۱) میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔

البتہ اگر یہ رقص وغیرہ عید کے موقع پر ہو یا کسی اور خوشی کے موقع پر ہو تو ایسی حالت میں یہ مکروہ بھی نہیں ہے ، اس لئے کہ عید کی تہوار یا کسی اور خوشی کے موقع پر دل موج مستی اور ہلّہ گلّہ کی طرف مائل ہوہی جاتے ہیں ، اور اس رغبتِ نفسانی کی تو شریعت نے بھی پورا پورا لحاظ رکھا ہے بشرطیکہ یہ کسی فساد وشر کا باعث نہ بنے ، اور اس کی سب سے روشن اور واضح مثال یہ ہے کہ اللہ کے حبیب نے عید کے دن حبشیوں کو کھیلنے کے لئے مسجدِ نبوی میں برقرار رکھا اور ان کا وہ کھیل اچھلنا کودنا تھا اور یہ اچھل کود بھی رقص کی ایک قسم ہے ، اور امام احمدؒ کی روایت (۲۳۷۰۹۹) میں ان کے کے ا س کھیل کو ناچ کا نام دیا گیا ہے جیسا کہ اماں عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپنے میری ٹھوڑی اپنے دوشِ مبارک پر رکھی تاکہ میں حبشیوں کے رقص کو دیکھ سکوں ۔ امام زمخشری ؒ نے کتاب (فائق :۱۱۲/۲) میں اس سے رقص مراد لیا ہے ، اور ابنِ اثیر نے کتاب(النھایہ:۳۰۵/۲) میں اس سے کھیل اور دفع مراد لیا ہے ، اس سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بھی ہے کہ حبشہ کا ایک وفد آیا تو وہ رقص کرنے لگے ۔

لیکن اس سب کے باوجود بھی ہر اس چیز سے کوسوں دور رہنا چاہئے جو فتنہ و فساد کا سبب بنے مثلاََ ایسی حرکات وغیرہ جو دلوں میں سوئے ہوئے جذبات برانگیختہ کرے ان سے گریز کرنا چاہئے ۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

08/04/1425هـ

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں