فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / مالی مشکلات قطعِ رحمی کو جائز نہیں کرتیں

مالی مشکلات قطعِ رحمی کو جائز نہیں کرتیں

تاریخ شائع کریں : 2017-03-21 06:46 PM | مناظر : 1576
- Aa +

سوال

میں نے اپنے بھائی کو ایک خطیر رقم بطورِ ادھار دی تھی تاکہ وہ اس سے کوئی کاروبار وغیرہ کرے اور جب اس سے نفع ہو تو مجھے میری رقم واپس کردے ، لیکن بعد میں وہ ایک سال تک ٹال مٹول سے کام لیتا رہا اور بالآخر ایک دن اس نے یہ کہا کہ میرا تو سارا سرمایہ ڈوب گیا ہے ، اور اس طرح اس نے اپنے کئے ہوئے وعدے کی لاج نہیں رکھی ، میں نے بھی طیش میں آکر قسم کھالی کہ جب تک وہ میرا مال نہیں لوٹاتا تو تب تک نہ تو وہ میرے گھر میں قدم رکھے گا اور نہ ہی میں اس کے گھر جاؤں گا، لیکن یہ بات پیشِ نظر رہے کہ میں نے اسے جو نصف مال بطورِ ادھار کے دیا تھا اس کو میں نے کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ واپس لے لیا ہے اور اب اس ادھار کا ہرجانہ بھرنے کے لئے مجھے کئی سال درکار ہیں جبکہ میں اس وقت شدید مالی بحران کا بھی شکار ہوں ۔ لہٰذا اب میرا سوال یہ ہے کہ میرا اپنے بھائی کے ساتھ قطع رحمی کا کیا حکم ہے ؟ اور کیا مجھے اس قطعِ رحمی کا گناہ ہوگا ؟

المشاكل المالية لا تجيز قطيعة الرحم

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

  صرف مال کی وجہ سے آ پ کا اپنے بھائی کے ساتھ قطعِ تعلق کرنا جائز نہیں ہے ، بلکہ آپ کو چاہئے کہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کریں اس لئے کہ یہ تو وہ رشتہ ہے جس میں صلہ رحمی واجب ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’پھر اگر تم نے جہاد سے منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے ؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ، چنانچہ انہیں بہرا بنادیا ہے اور ان کی آنکھیں اندھی کردی ہیں ‘‘۔ (محمد:۲۳/۲۲

اور آنحضرتکا بھی ارشادگرامی ہے : ’’جو شخص بھی اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ صلہ رحمی کرے‘‘۔ اس حدیث کو امام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے ۔

ایک اور حدیث میں حضرت عائشہ سے مروی ہے : ’’صلہ رحمی عرشِ الٰہی کے ساتھ لٹکی رہتی ہے اور ہر وقت یہ کہتی رہتی ہے کہ جس نے مجھے جوڑا اسے اللہ جوڑدے اور جس نے مجھے توڑا اسے اللہ توڑدے‘‘۔

ایک آدمی اللہ کے رسولکے پاس آکر عرض پرداز ہوا :  میرے بعض رشتہ دار ہیں میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں جبکہ وہ میرے ساتھ قطع رحمی کرتے ہیں ، میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتا ہوں جبکہ وہ میرے ساتھ برا سلوک برتتے ہیں ، میں ان کے ساتھ بردباری کا معاملہ کرتاہوں جبکہ وہ اپنا اجڈ پن دکھاتے ہیں ، لہٰذامیں کیا کروں؟ اللہ کے رسولنے یہ سن کر ارشاد فرمایا:  اگر معاملہ واقعی ایسا ہی ہے جیسا کہ تم کہہ رہے ہو تو گویا تم ان کے چہروں پر راکھ مَل رہے ہو ، اور جب تک تم اس طرح کرتے رہوگے تب تک اللہ تعالیٰ کی معاونت ان کے خلاف تمہارے ساتھ رہے گی ۔

یہ ساری نصوصِ شرعیہ صلہ رحمی کے وجوب اور قطع رحمی کی حرمت پر دال ہیں ، لیکن بغیر کسی قطع رحمی اور بدسلوکی کے یہ سب آپ کو اپنے حق سے نہیں روکتے ، اور میں یہاں آ پ کو اللہ کے رسولکا وہ ارشاد گرامی بھی سنانا چاہتا ہوں جس کو امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے نقل کیا ہے کہ کسی مسلمان کے یہ شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے ساتھ تین دن زیادہ قطع کلامی کرے۔

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ان تمام باتوں کی توفیق دے جن میں اللہ تعالیٰ کی پسند اور خوشنودی شامل ہو ۔

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں