فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

متفرق فتاوى جات / میں اپنی والدۂ محترمہ کی وفات کے بعد کسی طرح ان کے کی فرمانبرداری کروں؟

میں اپنی والدۂ محترمہ کی وفات کے بعد کسی طرح ان کے کی فرمانبرداری کروں؟

تاریخ شائع کریں : 2017-03-21 06:50 PM | مناظر : 979
- Aa +

سوال

میری والدۂ محترمہ ایک سال پہلے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ چکی ہیں اور اپنے پیچھے پانچ بیٹے چھوڑ چکی ہیں جن میں سب سے بڑی میں ہوں ، یعنی میں چھبیس سال کی ایک غیرشادی شدہ دوشیزہ ہوں ، اب ان کی وفات کے بعد میں کس طرح ان کی اطاعت کروں ؟ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ میں ایک جگہ نوکری کرتی ہوں اور میری نانی بھی ابھی تاحیات ہیں ، اپنی والدہ کے ساتھ میں کبھی کبھی ان کے درشن کرنے جایا کرتی تھی ، لیکن اب چونکہ میرے کندھے پربے حد ساری ذمہ داریاں آگئی ہیں اس لئے ان کی زیارت کے لئے میرے پاس وقت نہیں بچتا ، اس لئے ازراہِ کرم اس بارے میں میری راہنمائی کریں

كيف أبر والدتي بعد موتها؟

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

 اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں آپ کی معاونت فرمائے اور آپ جہاں بھی ہوں آپ کے لئے خیر کے اسباب میسر فرمائے ۔

والدہ کی وفات کے بعد اس کی اطاعت و فرمانبرداری کا سب سے بڑا ذریعہ و سبب اس کے لئے دعائے رحمت و مغفرت کرنا ہے ، جیسا کہ مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے : آدم کا بیٹا جب مرتا ہے تو سوائے تین اعمال کے اس کے باقی سارے اعمال کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے صدقۂ جاریہ کے، علمِ نافع کے اور نیک اولاد کے جو اس کے لئے دعائے خیر کرتے رہتے رہیں ۔  لہٰذا اپنی والدہ کی وفات کے بعد ان کی اطاعت کا یہ سب سے بہتر طریقہ ہے کہ ان کے لئے دعائے خیر کرتے رہیں۔

دوسرا طریقہ والدین کی وفات کے بعد ان کے پیاروں اور دل عزیزوں سے راہ ورسم برقرار رکھنا ہے جیسا کہ امام احمدؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت ابن عمرؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’والدین کی سب سے بڑی اطاعت (ان کی وفات کے بعد) ان کے پیاروں اور دل عزیزوں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہے ‘‘۔ اور مسلم کی روایت میں ہے : ’’والد کی وفات کے بعد بیٹے کے لئے سب سے بڑی اطاعت یہ ہے کہ وہ اپنے والد کے پیاروں اور دل عزیزوں سے میل ملاپ برقرار رکھے‘‘۔

لہٰذا عزیر واقارب میں سے آپ والدہ محترمہ جس جس کو پسند فرماتی تھی اس کے ساتھ خوب صلہ رحمی کریں ، اور ان سب میں سب سے پہلے آپ کی نانی اور آپ کے بھائی اس بات کے زیاد ہ حقدار ہیں ، باقی اسکے علاوہ آ پ جس کے ساتھ جتنا مادی یا معنوی احسان کا معاملہ کرسکتی ہیں کر گزریں ، پھر چاہے وہ احسان میل ملاپ ، ٹیلیفون اور خط و کتابت کے ذریعہ ہو یا پھر کسی اور وسائل کے ذریعہ ہو ۔  واللہ أعلم

آپ کا بھائی

خالد المصلح

18/09/1424هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں