×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / روزه اور رمضان / روزہ دار اگر کلی کرے یا ناک میں پانی ڈالے اور پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-03-28 07:12 PM | مناظر:712
- Aa +

سوال

روزہ دار اگر کلی کرے یا ناک میں پانی ڈالے اور پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

إذا تمضمض الصائم أو استنشق فدخل الماء إلى جوفه فهل يفطر بذلك؟

جواب

 

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

اگر روزہ دار کا ارادہ نہ ہو اور کلی کرنے یا ناک میں پانی ڈالنے کہ وجہ سے پانی اندر چلا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس کا روزہ ٹھیک ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ روزہ توڑنے والے اسباب اختیار ، ارادے اور فی الوقت فعل کا علم ہونے سے ہی اثر انداز ہوتے ہیں ، لہذا یہ ضروری ہے کہ بوقت فعل اس کو اپنے روزہ توڑنے والے فعل کا پتہ ہو اور اس کا ارادہ بھی ہو اس کے ساتھ ساتھ وہ مغلوب الحال بھی نہ ہو۔ اب اگر ان شروط میں سے کو ئی شرط بھی مفقود ہوئی تو کوئی حرج والی بات نہیں اور روزہ برقرار ہے ، اور اگر کوئی شخص کلی کرے اور غلطی سے کچھ پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے اور یہ اس کے مغلوب ہونے سے ہو یعنی غلطی سے ہو تو اس کا روزہ برقرار ہے اسی طرح ناک میں پانی ڈالنے کا معاملہ ہے، اور اس (کلی کے دوران ایسا ہونے پر) علماء کا اجماع ہے


سب سے زیادہ دیکھا گیا

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں