فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

روزه اور رمضان / اگر روزے کی قضاء میں تأخیر ہو جائے تو کیا اس کے ساتھ کھانا کھلانا ضروری ہے؟

اگر روزے کی قضاء میں تأخیر ہو جائے تو کیا اس کے ساتھ کھانا کھلانا ضروری ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-03-28 07:15 PM | مناظر : 405
- Aa +

سوال

اگر روزے کی قضاء میں تأخیر ہو جائے تو کا اس کے ساتھ کھانا کھلانا ضروری ہے؟

إذا تأخر عن قضاء الصيام فهل يشترط معه الإطعام؟

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

جمہور علماء کا مذہب تو یہ ہے کہ اس صورت میں اطعام ضروری ہے۔

اور دوسرا قول یہ ہے : کہ اطعام واجب نہیں اور زیادہ اقرب الی الصواب بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اطعام کے بغیر قضاء کو واجب کیا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: (تم میں سے جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو اور دنوں میں اتنی مدت پوری کر لے) [البقرہ:۱۸۴] اور صحیح میں حضرت عائشہؓ کی حدیث ہے کہ نبیؐ نے فرمایا: (( جو مرجائے اس حال میں کہ اس پر روزے واجب القضاء ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے)) آپؐ نے کھانا کھلانے کا ذکر نہیں کیا، اس میں عموماََ تمام روزے شامل ہیں چاہے کئی سال پرانے ہوں یا آخری سال کے ہوں

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں