×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / روزه اور رمضان / جو شخص فجر کی اذان کے دوران کھاتا یا پیتا رہا ہو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-04-08 09:53 AM | مناظر:827
- Aa +

سوال

جو شخص اذان کے دوران بھی کھاتا یا پیتا رہا ہو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

ما حكم صيام من أكل أو شرب أثناء أذان الفجر؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اکژر کیلنڈرز میں اذان کچھ پہلے ہوتی ہے اور کم از کم مانچ منٹ پہلے ہوتی ہے، اس وجہ سے کھانے والے کا کھانا اگر اذان کے وقت میں ہو اور اذان کا وقت مذکورہ کیلنڈر کے مطابق ہو تو روزے میں کوئی اشکال نہیں رہتا کیونکہ فجر کا وقت ابھی واضح نہیں ہوا، اور اللہ تعالی فرماتے ہیں: ((اور اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ممتاز ہو کر تم پر واضح نہ ہو جائے)) [البقرہ:۱۸۷] اور نبیؐ کا فرمان ہے: ((بلال کی اذان تمہیں (کھانے پینے سے) نہ روکے کیونکہ وہ رات میں اذان دیتا ہے، لیکن ابن ام مکتوم کی اذان کا اعتبار کیا کرو))، اور حدیث صحیح میں یہ زیادتی بھی آئی ہے فرمایا: ((اور وہ تب تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ نہ کہا جاتا: صبح ہو گئی، صبح ہو گئی))، یعنی فجر طلوع ہو گئی۔

اور اگر مؤذن وقت پر اذان دیتا ہو تو اس صورت میں جائز نہیں کہ انسان کچھ کھائے پئے، اگرچہ اس کے ہاتھ میں ہی ہو، ((اور کھاؤ پؤ یہاں تک کہ واضح نہ ہو جائے)) اور اب مؤذن کے وقت پر اذان دینے سے واضح ہو گیا ہے۔ اگر مؤذن کیلنڈر کے مطابق اذان دیتا ہو جیسا کہ آجکل عام طور پر دنیا میں اکثر ممالک میں رائج ہے تو کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں، لیکن پھر بھی احتیاط اس میں ہے کہ اس سے اجتناب ہی کرے، اگر پھر بھی کھا لیا تو اس کا روزہ صحیح ہے۔


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں