فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​زکوٰۃ / اموالِ ایجارہ میں زکوٰۃ کا حکم

اموالِ ایجارہ میں زکوٰۃ کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-05-16 02:34 PM | مناظر : 490
- Aa +

سوال

اموالِ ایجارہ کی زکوٰۃ کب نکالی جائے گی؟

متى تُزَكَّى أموال الإيجارات؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

سوال کرنے والی صاحبہ ان اموالِ ایجارہ کی اپنے وکیل کی ملکیت میں داخل ہونے سے بھی مالک بن جاتی ہے اس لئے کہ وکیل کا قبضہ بھی اصل مالک کے قبضہ کی طرح ہوتا ہے ، یعنی: اگر مثال کے طور پر کسی متعین ملک میں متعین جگہ میں میری تجارت ہو اور میں ان اموال کو حاصل نہیں کرسکتا لیکن میرا وکیل ان اموال کو حاصل کرسکتا ہے ، پھر حاصل کرنے کے بعد وہ میرا حصہ ادا کرتا ہے ، تو یہاں میرے وکیل کے حساب میں داخل ہونے سے ہی وہ میری ملکیت میں داخل ہوجاتا ہے ، لہٰذا زکوٰۃ میرے ہاتھ تک پہنچنے کے بعد نہیں ہوگی بلکہ وکیل کے قبضہ میں آتے ہی زکوٰۃ واجب ہوگی ، اس لئے کہ وکیل کے قبضہ میں ہونے سے میرا قبضہ ختم نہیں ہوتا، اس لئے کہ وکیل کے قبضہ میں ہونا گویا ایسا ہے کہ وہ میرے ہی قبضہ میں ہے ، اور جیسا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وکیل کا قبضہ اصل مالک ہی کی طرح ہوتا ہے ، لہٰذا جب وکیل کا قبضہ ہوگا تو اس تاریخ سے زکوٰۃ واجب ہوگی (سال پورا ہونے کے بعد)۔

لیکن اگر وکیل یہ کہے کہ بخدا میں پہلے شمار اور ترتیب کروں گا پھر اس کے بعد آپ کے لئے تقسیم کروں گا ، تو یہ وکیل کا اپنا اجتہاد ہے ، لیکن اس سے سال نہیں کاٹا جائے گا، الا یہ کہ وکیل خود ہی عدالت (کابندہ) ہو، اس لئے کہ عدالت جب اس مال پر قبضہ کرے گی تو وہ اس مال کو بیت المال میں رکھے گی، تو اس طرح یہاں ملکیت ناقص ہے ، اور اگر مثال کے طور پر وکیل کوئی پرسنل وکیل ہو تو یہ بھی کوئی ملکیت نہیں ہے ، اس لئے کہ پرسنل وکیل کے بارے میں یہ بھی عین ممکن ہے کہ آپ اسے معزول کردیں اور پھر یہ کہیں: نہیں، تم اس طرح تقسیم کرو، اور پھر وہ آپ کے حکم اور منشاء کے مطابق اس مال کو بیت المال میں جمع کردے، لہٰذا اگر وہ مال بیت المال میں ہو تو زکوٰۃ اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک آپ کا قبضہ نہ ہو، اگر یہ وکالت کسی عدالت یا ادارہ کے پاس ہو تو کوئی حکومتی ادارہ اس کا مطالبہ نہیں کرسکتا، البتہ اگر یہ ادارہ کوئی پرسنل ادارہ ہو یا یہ وکالت کوئی پرسنل وکالت ہو تو ایسے میں اگر یہ مال وکیل کی ملکیت میں داخل ہوگا تو پھر اسی مدت سے زکوٰۃ شمار کی جائے گی ۔

لیکن اگر وکیل کسی بازی گر کی طرح بہت ٹال مٹول کرنے والا ہو کہ اموال کو لے کر سال دو سال تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھ کر بیٹھتا ہو اور اسے اپنے مالکوں کونہیں دیتا جبکہ وہ اس بات کا دعویدار ہو کہ وہ تو ان کو مال دیتا ہے تو یہاں پر یہ اموال اس مال کی طرح ہوں گے جو کسی ٹال مٹول کرنے والے کے پاس ہو تو اگر آپ کو ایک مرتبہ بھی اس پر قبضہ حاصل ہو جائے تو اس کی زکوٰۃ اد اکریں گے ، یہی بعض علماء کا کہنا ہے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں