×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / تجارت کے لئے لی ہوئی زمین میں زکوٰۃ کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-17 09:07 AM | مناظر:547
- Aa +

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم جناب میرے پاس پندرہ سال سے ایک رہائشی زمین ہے ، جو میں نے تجارت کی نیت سے خریدی تھی اور اب پچھلے پانچ سالوں سے میں نے اس کے فروخت کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے تو اب اس کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہے ؟

زكاة الأرض المعدَّة للتجارة

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

اگر اتنے سالوں تک اس زمین کو بیع کے لئے پیش کیا ہے تو پھر اتنے سالوں کی زکوٰۃ واجب ہے ، لیکن اگر اسے سرے سے علم ہی نہ تھا یا اس کا یہ گمان تھا کہ اس کی زکوٰۃ نہیں ہوتی یا صرف ایک بار زکوٰۃ نکالی جاتی ہے تو پھر جہاں تک مجھے لگ رہا ہے تو اس کے لئے ایک سال کی زکوٰۃ کا ادا کرنا کافی ہے ، اور اسی سال سے شمار کرے گا ، اور اگر تیسری بار آپ نے آئندہ سال تاخیرکی اور اس کے بعد شمار کرے گا، تو جب تک یہ زمین اس کے پاس ہوگی اور وہ اس کو بیع کے لئے پیش کرتا رہے گا اور وہ اس سے تجارت کی نیت بھی کرتا ہے تو وہ اس کی زکوٰۃ نکالے گا اور اس دن زکوٰۃ کی جو قیمت ہوگی اسی کے بقدر زکوٰۃ نکالے گا، مثال کے طور پر اگر اس کی قیمت اس دن دس ہزار دینار ہو تو وہ اس کی زکوٰۃ دس ہزار نکالے گا اور ایک سال بعد اس کی قیمت پچیس ہزار دینار ہوتی ہے تو وہ اس کی زکوٰۃ پچیس ہزار دینار نکالے گا، اور اس کی قیمت پچھلے سال کی شمارنہیں کرے گا بلکہ جس سال اس کو فروخت کرے گا اس سال کی قیمت کے مطابق زکوٰۃ ادا کرے گا۔

 


سب سے زیادہ دیکھا گیا

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں