×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / اس بیع کی کیا اصل ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-06-30 03:10 PM | مناظر:785
- Aa +

سوال

یہاں ہمارے ہاں خرید وفروخت کا ایک طریقہ پایا جاتا ہے جسے کریڈٹ لیزنگ کہا جاتا ہے، ایک طالب علم نے مجھے اس کا نام وہ عقد اجارہ بتایا ہے جو مفضی الی بیع ہو، جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ مثلا میں ایک ایسی گاڑی خریدنا چاہتا ہوں جس کی قیمت 93024 درہم ہے اور یہ رقم میں ایک فاؤنڈیشن ادارہ کو دوں گا جو کہ واقعی ایک سُودی ادارہ ہے، جیسا کہ 8075 درہم پیشگی کے طور پر ادا کروں گا اور پھر پانچ سال کی مدت میں ماہانہ 1724 درہم ادا کروں گا، اور ان پانچ سالوں کی مدت میں یہ گاڑی اس سُودی فاؤنڈیشن ادارہ کے نام ہوگی ، اور میں گاڑی کا کرایہ دار رہوں گا، اور اگر چھ ماہ کی قسطیں میں نے ادا نہیں کیں تو وہ مجھ سے اپنی گاڑی لے لیں گے ، اور جب ساٹھ ماہ پورے ہوجائیں گے تو میں ٹوکن رقم ادا کروں گا جو 749 درہم ہیں ، اور اسطرح یہ گاڑی اب میری ملکیت میں آجائے گی اور میرے لئے اس میں ہر قسم کے تصرف کا اختیار حاصل ہوجائے گا، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا معاملہ کرنا حلال ہے؟ مجھے اس بارے میں فتوی دیں اللہ تعالیٰ آ پ کو اس کا اجر عطا فرمائے

ما صحة هذا البيع

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

آپ نے اپنے سوال کے اندر جس عقد کے اوصاف بتائے ہیں تو یہ ظلم پر مشتمل ہے ، اور وہ اس طرح کہ جب خریدار قسطوں کی ادائیگی سے لاچار آتا ہے تو یہ اس سے اپنی گاڑی واپس لے لیتے ہیں اور اس خریدار کو کوئی عوض نہیں دیا جاتا، اور یہ لوگوں کے اموال باطل ذریعہ سے کھانے کا ایک طریقہ ہے، اس لئے کہ عقد کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ ایک بیع ہے اجارہ نہیں، بایں طور کہ اس نے پیشگی کے طور پر کچھ مال دیا ہے، پس اس عقد کی جواز کی ایسی کوئی صورت ہو جس کی وجہ سے ظلم و زیادتی دور ہوسکے ، وگرنہ یہ عقد جائز نہیں ہے


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں