فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / رقم کی تبدیلی میں وکالت (ایجنٹ گری) کا حکم

رقم کی تبدیلی میں وکالت (ایجنٹ گری) کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-06-30 03:49 PM | مناظر : 455
- Aa +

سوال

اگر کوئی شخص اپنے کسی ساتھی کو رقم دے کر اس سے یہ کہے کہ یہ میرے لئے تبدیل کرا دو اور یہ شخص اس میں تجارت نہیں کرتا، اور جب اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ آپ اسے تبدیل کروائیں تو وہ کہتا ہے کہ میں یہ کل آپ کے پاس لے کر آؤں گا، اور پھر وہ اپنے ساتھ وہ مال لے کر آتا ہے جس کی تبدیلی کا اس سے مطالبہ کیا گیا تھا، اب سوال یہ ہے کہ یہ آپ ﷺ کے اس ارشاد گرامی کے تحت تو شامل نہیں ہے: ’’جب سونے کو سونے کے بدلے ، چاندی کو چاندی کے بدلے، آٹے کو آٹے کے بدلے، جَو کو جَو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، اور نمک کو نمک کے بدلے بیچو تو مثل بہ مثل اور ہاتھ در ہاتھ بیچو ، اور جس نے زیادتی کی یا زیادتی طلب کی تو اس نے سود لیا اور لینے والا اور دینے والا دونوں حکم میں برابر ہیں‘‘، یعنی کیا یہ معاملہ جائز نہیں ہے؟

الوكالة في الصرف

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

یہ مسئلہ دو صورتوں سے خالی نہیں ہے:

پہلی صورت: اگر وہ اپنے ساتھی کو مال دے تا کہ وہ اس کے لئے تبدیل کرا دے تو یہ تبدیلی میں وکیل بنانا ہے اور اس صورت میں مجلس میں قبضہ واجب نہیں ہے۔

دوسری صورت: یہ ہے کہ وہ اس سے رقم کا مطالبہ کرے ، اس صورت میں جدا ہونے سے پہلے قبضہ واجب ہے، جیسا کہ آپ کا فرمان حدیثِ مذکورہ اور اسی طرح اور بھی صحیح احادیث میں آیا ہے کہ (یدا ً بیدِِ) ہاتھ در ہاتھ ہو ، اور کئی اہل علم کی طر ف سے جدا ہونے سے پہلے قبضہ کے وجوب پر اجماع منقول ہے۔ واللہ أعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

03/01/1425هـ

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں