فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / عورتوں کا بیوٹی پارلر اور لیڈی ہئیر ڈریسر کے کام کرنے کا حکم

عورتوں کا بیوٹی پارلر اور لیڈی ہئیر ڈریسر کے کام کرنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-07-08 12:13 PM | مناظر : 1294
- Aa +

سوال

میری بیوی بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہے اور اس کا کام خواتین کا میکپ کرنا ہے، لیکن اسے یہ نہیں پتہ کہ وہ عورت یہ میکپ اپنے خاوند کے لئے کررہی ہے یا پھر بے حیائی کی محافل میں محض تیاری اور زیبائش کے لئے کررہی ہے، لہٰذا اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اصل کے اعتبار سے میکپ کرنے والی عورت کا کام ہمارے سچے دین میں جائز ہے؟

حكم عمل مجملة النساء : الكوافيره

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اصل کے اعتبار سے زیب وزینت مباح و جائز ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام قرار دیا ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے نکالی ہے اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو؟﴾ [الاعراف: 32] اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ خود خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے‘‘، اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ خوبصورتی اللہ تعالی ٰکو پسند ہے، یہ کپڑوں کی خوبصورتی پر مشتمل ہے، اس لئے کہ اللہ کے رسولسے ایک آدمی نے عرض کیا: آدمی پنے لئے خوبصورت کپڑے اور خوبصورت جوتا پسند کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ آنحضرتنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ خود خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے‘‘، ابن القیم نے کتاب الفوائد {ص: 184} میں لکھا ہے: ’’اس میں عام طور پر ہر قسم کی خوبصورتی داخل ہے‘‘۔

اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ باطن کی خوبصورتی شکل و صورت کی خوبصورتی پر مقدم ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں لباس جس سے انسان اپنا ستر چھپاتا ہے اور ظاہری خوبصورتی حاصل کرتا ہے اس لباس کی نعمت کا ذکر کرنے کے ارشاد فرمایا: ﴿اورتقوی کا لباس زیادہ بہتر ہے﴾ [الاعراف: 26]۔

اور مقصود اس سے یہ ہے کہ چہرے کی خوبصورتی مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے یکساں امرِ مشروع ہے، لیکن عورتوں کو اس کی زیاد ہ ضرورت ہوتی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿بھلا جو زیورات میں پروان چڑھی ہو اور وہ لڑائی کے وقت غیر فصیح ہو﴾ [الزخرف: 18] اس لئے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے سونا اور ریشم وغیرہ سے زینت حاصل کرنا مردوں کے مقابلہ میں زیادہ مباح قرار دیا ہے۔

باقی آپ نے عورتوں کے میکپ کرنے اور اس پر اجرت لینے کے حکم کے بارے میں پوچھا تو وہ جائز ہے، اس لئے کہ اس کی اصل اباحت پر مبنی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے﴾ [البقرۃ: 275] یہی جمہور کا قول ہے۔

البتہ امام احمد نے لیڈی ہئیر ڈریسر کی کمائی ناپسند کی ہے، اور اہل علم نے حسن سے اس کے بارے میں حرمت کا قول نقل کیا ہے، کیونکہ یہ غالب طور پر حرام یا تخلیقِ خدا کی تبدیلی سے خالی نہیں ہوتا۔

لیکن میری نظر میں جب تک اس پلکنگ وغیرہ جیسے حرام تجمیل اور اللہ اور رسول کی طرف سے منع کردہ کام پر اجرت نہ لی جائے تو اس کی اجرت جائز ہے۔

باقی عورت اس زیب و زینت کے بعد حرام کام کی طرف جاتی ہے تو یہ مسئلہ تین حالتوں سے خالی نہیں ہے:

پہلی حالت:  جب آپ کی بیوی کو پورا علم ہو کہ یہ حرام کام کیلئے سج دھج رہی ہے تو اس صورت میں آپ کی بیوی کے لئے اس کا سجانا جائز نہیں اور اس پر حاصل کردہ رقم حرام ہے۔

دوسری حالت:  جب آپ کی بیوی کو پورا علم ہو کہ یہ مباح اور مشروع کام کے لئے سج دھج رہی ہے تو پھر اس کا عمل جائز ہے اور اس پر حاصل کردہ رقم مباح ہے۔

تیسری حالت:  آپ کی بیوی کو پورا علم ہو کہ یہ حرام کام کے لئے سج دھج رہی ہے لیکن یہ اس کا غالب گمان ہو ، تو یہ بھی جائز نہیں ہے اس لئے کہ غالب گمان یقینِ کامل کے حکم میں ہے، اور اگر اس کا غالب گمان نہ ہو تو پھر اس کا حکم اباحت کا ہے۔

باقی اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

07/09/1424هـ

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں