الخميس 15 رجب 1442 هـ
آخر تحديث منذ 11 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الخميس 15 رجب 1442 هـ آخر تحديث منذ 11 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

کیا بیوی اپنی اولاد کو دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

کیا بیوی اپنی اولاد کو دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے؟

تاريخ النشر : 3 ذو الحجة 1437 هـ - الموافق 06 سبتمبر 2016 م | المشاهدات : 764

 کیا شادی شدہ عور ت اپنے خاوند سے اولاد کو دودھ پلانے کی اجرت کا مطالبہ کر سکتی ہے؟

ھل تستحق الزوجۃ أجرۃ علی ارضاعھا لأولادھا؟

جمہور علماء یعنی حنفیہ مالکیہ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک (جس کو امام ابن تیمیہ ؒ نے بھی اختیار کیا ہے)بیوی کے لئے اپنے خاوند سے اولاد کو دودھ پلانے کی اجرت کا مطالبہ درست نہیں ہے کیونکہ جب تک وہ خاوند کے پاس ہے اس پر اپنی اولاد کو دودھ پلانا واجب ہے،  اور اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے ماؤں پر اپنی اولاد کو دودھ پلانا واجب قرار دیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں‘‘(البقرہ:۲۳۳)یہاں خبر بمعنیٔ امر ہے، اور اللہ تعالیٰ نے خاوندوں پر اپنی اولاد کا رزق اور لباس واجب قرار دیا ہے، اور یہی نفقہ ہے،  جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور باپ پراچھی طرح سے اپنی اولاد کا رزق و لباس فرض ہے‘‘ (البقرہ:۲۳۳) اور یہی اس کا حاصل ہے جب تک وہ خاوند کے پاس ہے۔

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف