کیا یہ جائز ہے کہ صدقہ فطر کسی دوسرے کی طرف سے اداکی جائے اوراس کی ادائیگی کسی نقدی وغیرہ میں سے کی جائے ؟
إخراج زكاة الفطر عن الغير ؟ وما حكم إخراجها من النقد؟
کیا یہ جائز ہے کہ صدقہ فطر کسی دوسرے کی طرف سے اداکی جائے اوراس کی ادائیگی کسی نقدی وغیرہ میں سے کی جائے ؟
إخراج زكاة الفطر عن الغير ؟ وما حكم إخراجها من النقد؟
الجواب
حامداََ و مصلیاََ۔۔۔
اما بعد۔۔۔
اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ
دوسروں کی طرف سے صدقات واجبہ کی ادائیگی جائز تو ہے لیکن اس میں ضروری ہے کہ وہ دوسرا بندہ آپ کو وکیل بنادے ۔اس لئے کہ صدقات واجبہ دیتے وقت نیت ضروری ہے ۔کیونکہ اعمال کادارومدار نیتوں پر ہے ۔توبغیر وکیل بنائے اگر کوئی زکوۃ یا صدقہ دیتاہے تو یہ ادائیگی معتبر نہ ہوگی ۔ تواس مذکورہ صورت میں جب وہ اپنی کی طرف سے صدقہ فطر دے رہاہے تو اس کو چاہیے کہ نیت کرے ۔اورا گر آپ کے والد آپ کی طرف سے دے رہے ہوتو اسکو وکیل بنادے یا اس کواپنی طرف سے اجازت دے دے یادیتے وقت کم ازکم آپ کے ذہن میں ہو کہ یہ میری طرف سے دے رہا ہے پھر صحیح ہے ۔
باقی رہا صدقہ فطرنقدی کی صورت میں دینا،تواس بارے میں کچھ تفصیل ہے:
پہلاقول : جمہور علماء فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر میں ایک صاع کھانا دیا جائے کیونکہ اس بارے میں صحیحین میں ابن عمر ؓ کی روایت آتی ہے (کہ نبی کریمﷺنے صدقہ فطر میں ایک صاع کھا نا (گندم ) یاایک صاع کھجورمقررفرمائی)۔اس حدیث سے یہ معلوم ہوتاہے کہ صدقہ فطر میں اسی طعام (گندم) کا اعتبار ہے ۔اورایک روایت میں آتاہے جو کہ ابوسعید خدریؓ کی ہے کہ (ہم نبیﷺکے زمانہ میں کھجورمیں سے ایک صاع ،کشمش میں ایک صاع ،جومیں ایک صاع ،پنیر میں ایک صاع اورگندم میں ایک صاع دیا کرتے تھے )۔ـاس حدیث میں پانچ قسم کی چیزوں کوذکر کیا گیا ہے اور ان پانچوں کی پانچوں اقسام سے یہ معلوم ہوتاہے کہ صدقہ فطر اپنے علاقے کے اعتبارسے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی خوراک کے اعتبار سے ہوگی ۔
دوسراقول:امام ابن تیمیہؒ کامذہب اورحنابلہ کاایک قول یہ ہے کہ اگر ضرورت اورحاجت اس وقت نقدی کی ہوتو پھر نقدی سے دینے کی گنجائش بھی ہے۔
اب ضرورت اورحاجت ہم کسے کہیں گے ؟تو حاجت کی مثال یہ ہوگی کہ کسی علاقے والے کھانا قبول ہی نہیں کرتے پھرمجبوراََان کورقم دینی پڑے گی۔اورضرورت کی مثال یہ ہوگی کہ ایک علاقے والوں کے پاس کھانا وافرمقدار میں موجودہے تواگر چہ وہ آپ سے گندم وغیرہ قبول بھی کرلیں گے لیکن پھر بھی ان کی مصلحت اس میں ہے کہ آپ ان کونقدی دو،لہذا اس جیسی صورت حال میں نقدی وغیرہ دیناجائز ہے۔
تیسراقول : امام ابوحنیفہؒ کا مذہب یہ ہے کہ خواہ حاجت ہو یا نہ ہو ہرحال میں نقدی دینے کی گنجائش ہے
لیکن سب سے راجح قول امام ابن تیمیہؒ کاہے کہ حاجت ہو تونقدی میں سے دے ورنہ تو اسی کھانے کی جنس میں دے