السبت 19 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 37 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 19 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 37 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا

مشاركة هذه الفقرة

صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا

تاريخ النشر : 20 جمادى آخر 1438 هـ - الموافق 19 مارس 2017 م | المشاهدات : 2501

صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟

صيام الجمعة منفرداً

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

نبینے صرف جمعہ کے دن کو خاص کرکے روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ جیسا کہ صحیح میں حضرت ابوہریرۃؓ کی حدیث میں ہے: (جمعہ کا دن خاص نہ کرو روزے کے لئے اور نہ اس کی رات قیام کے لئے) نبینے اس دن کو خاص کرنے سے منع فرمایا اور ایک بار نبیاپنی ایک زوجہ محترمہ کے پاس جمعہ والے دن تشریف لائے اور ان کو روزہ کی حالت میں پایا تو فرمایا: (کیا آپ نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ نے ہوچھا کیا آپ آئندہ کل روزہ رکھو گی؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔ تو آپنے فرمایا: پھر آپ اس روزے کو افطار کریں۔) لہذا نبینے صرف جمعہ کے دن کے روزے سےمنع فرمایا۔ لیکن علماء فرماتے ہیں کہ یہ روکنا اس وقت ہے کہ جب یہ اکیلا روزہ خاص کرنے کی وجہ سے ہو یعنی روزہ رکھنا جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے ہو اورجہاں تک یہ بات ہے کہ اس وجہ سے روزہ رکھا جائےکہ آج کے دن وہ عمل سے فارغ ہے یا یہ ایسا  دن ہو کہ اس میں اس کے لئے روزہ رکھنے میں آسانی ہو اور ایسی کوئی نیت نہ ہو جس کا تعلق اس دن کی تخصیص ہو تواس حالت میں روزہ رکھنا صحیح ہے اور یہ اس نہی کے حکم میں داخل نہیں ہوگا

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف