السبت 19 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 58 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 19 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 58 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

پالتو بکریوں میں زکوٰۃ کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

پالتو بکریوں میں زکوٰۃ کا حکم

تاريخ النشر : 21 شعبان 1438 هـ - الموافق 18 مايو 2017 م | المشاهدات : 529

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، میرے پاس بکریوں کا ایک بہت بڑا ریوڑ ہے جس کی تعداد 100 سے اوپر ہے ، میں پورا سال ان کو گھاس چارہ کھلاتا ہوں ، پہلے تو یہ کہ میں ان بکریوں کو تجارت اور مالی نفع کی وجہ سے بھی پالتا ہوں ،اور دوسرا یہ کہ یہ میرا پسندیدہ مشغلہ بھی ہے ، بایں طور کہ میں بڑی بکریوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں اور پھر ان کی پیداوار کو فروخت کر دیتا ہوں ، یہاں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ بڑی بکریوں کو جو گھاس چارہ وغیرہ کھلایا جاتا ہے تو وہ ان کی پیداوار کی فروختگی سے ہوتا ہے ، لیکن اب تک میں نے بڑی بکریوں کو فروخت نہیں کیا ، لیکن جب اچھی قیمت ملے تو میں ان میں سے ایک بکری فروخت کر دیتا ہوں ، لہٰذا جنابِ مآب سے میری گزارش ہے کہ اس حال میں زکوٰۃ کی کیفیت کے بارے میں میری رہنمائی فرمائیں ، اور کیا زکوٰۃ صرف اسی مال پر آئے گی جس سے ان بکریوں کو چارہ کھلایا جاتا ہے یا پھر پورے مال پر؟ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے

زكاة الأغنام التي ليست للتجارة

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته۔

ان بکریوں میں عام چوپایوں کی طرح زکوٰۃ نہیں ہے ، اس لئے کہ آپ ان کو چارہ کھلاتے ہیں ، آپ پر زکوٰۃ اس صورت میں آئے گی جب آپ ان کو تجارت کے لئے پیش کریں گے ، اس لئے کہ اس صورت میں یہ ان تجارتی سامان سے ہوجائے گا جس پر جمہورعلماء کے نزدیک زکوٰۃ واجب ہے، لہٰذا جب اس پر پورا سال گزر جائے تو تجارت کے لئے آپ نے جوبکریاں پیش کی ہیں ان کی قیمت دیکھ لیں کہ ان کی قیمت کتنی ہے پھر جتنی قیمت بنتی ہو تو اس کے عشر میں سے چوتھائی حصہ زکوٰۃ نکال لیں ، اس اعتبار سے سو میں سے ڈھائی فیصد بنتے ہیں ، یہ اس کے علاوہ میں سے ہے جو آپ بڑی بکریوں پر چارہ کھلانے میں خرچ کرتے ہیں ، البتہ اگر بڑی بکریوں کو اچھی قیمت کے عوض فروخت بھی کرتے ہیں تو اس میں آپ پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے ، اس لئے کہ اس صورت میں وہ تجارتی مال نہیں بنتا۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

27/09/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف