السبت 11 ذو القعدة 1442 هـ
آخر تحديث منذ 42 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 11 ذو القعدة 1442 هـ آخر تحديث منذ 42 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

دوسرے ملک میں قربانی کے جانور کی قیمت بھیجنا

مشاركة هذه الفقرة

دوسرے ملک میں قربانی کے جانور کی قیمت بھیجنا

تاريخ النشر : 24 شعبان 1438 هـ - الموافق 21 مايو 2017 م | المشاهدات : 725

ہم یہاں امریکا میں رہائش پذیر ہیں کیا ہمارے لئے یہاں سے پاکستان یا عراق وغیرہ اسلامی ممالک میں قربانی کے جانور کی قیمت بھیجنا جائز ہے جبکہ وقت کے اعتبار سے ہمارے اور ان کے درمیان چھ گھنٹے کا فرق ہے ؟ اور ہم نے یہ سنا ہے کہ جو قربانی کرنا چاہے تو وہ شیو کرنے اور بالوں وغیرہ کے کاٹنے سے رکے گا جبکہ وقت کے اعتبار سے ان کی صبح ہم سے پہلے ہوتی ہے اب ایسا کرنا صحیح ہے جبکہ یہاں بھی ایک غریب مسلمان طبقہ پایا جاتا ہے اور قربانی کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں؟

إرسال ثمن الأضحية إلى بلد آخر

حمد و ثناء کے بعد۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

سنت تو یہ ہے کہ آپ اپنے وطن میں اپنے گھروالوں کے پاس قربانی کریں ، اس لئے کہ قربانی اللہ تعالیٰ کے ان عظیم شعائر میں سے ہے جس کو کرتے وقت وہاں حاضر ہونا اس کو خود کھانا اور دوسروں کو کھلانا ایک سنت ہے ، باقی رہی بات غریب ممالک کی تو وہاں پیسے بھیجے جاتے ہیں نہ کہ گوشت اس لئے کہ ان کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بھی اس عظیم عمل میں شامل ہوسکیں ، اور اگر ایسا ہو بھی جائے اور انسان کسی دوسرے ملک میں ہو تو اصل اعتبار قربانی کا ہوتا ہے چاہے ان کی عید پہلے ہو یا بعد میں ، جیسا کہ اللہ کے رسولنے ارشاد فرمایا: ’’کہ جو قربانی کا اراداہ کرے تو جب تک وہ قربانی نہ کرے تب تک وہ اپنے بالوں وغیرہ میں سے کچھ بھی نہ کاٹے‘‘۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے

المادة السابقة
المادة التالية

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف