السبت 19 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 1 ساعة 22 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 19 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 1 ساعة 22 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

جس کی کمائی پر حرام کا غالب گمان ہو اس سے قرضہ لینے اور گفٹ قبول کرنے کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

جس کی کمائی پر حرام کا غالب گمان ہو اس سے قرضہ لینے اور گفٹ قبول کرنے کا حکم

تاريخ النشر : 12 شوال 1438 هـ - الموافق 07 يوليو 2017 م | المشاهدات : 1058
- Aa +

جس کی کمائی پر حرام کا غالب گمان ہو اس سے قرضہ لینے اور کوئی گفٹ قبول کرنے کا کیا حکم ہے ؟

الاستدانة أو الهدية ممن يغلب على كسبه الحرام

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

حرام مال دو حالتوں سے خالی نہیں ہوتا:

پہلی حالت:  یہ ہے کہ وہ مال سرے سے ہی حرام ہو جیسے چوری کردہ اور چھینا ہوا مال وغیرہ، لہٰذاا س صورت میں جس کے ہاتھ میں اس قسم کے اموال ہیں اسکے ساتھ لین دین جائز نہیں ہے، نہ قرض و معاوضہ کے ذریعہ اور نہ ہی ہبہ وغیرہ کے ذریعہ ، اسلئے کہ یہ مال سرے سے ہی حرام ہے کہ یہ اس کے مالک کا حق ہے لہٰذا اس سے یہ مال لینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے الا یہ کہ اس سے لے کر اس مال کو اس کے مالک کو واپس کیا جائے ۔

دوسری حالت:  یہ ہے کہ وہ مال کمائی کی جانب سے حرام ہو جیسے سود یا اور حرام کاموں سے کمایا ہوا مال ، اہل علم کے اس میں دو قول ہیں: بعض علماء کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ لین دین جائز نہیں ہے ، اور بعض کہتے ہیں کہ جائز ہے ، ان حضرات کی دلیل آنحضرتکا یہودیوں کے ساتھ لین دین سے ہے جبکہ وہ ناحق اور سود کا مال بھی کھاتے تھے ، اور سود ان کے مال کا غالب حصہ تھا۔

اور اس کی تائید عبدالرزاق کی روایت کردہ ابن مسعودؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ میرا ایک سود خور پڑوسی ہے جو اکثر میری دعوت کرتا رہتا ہے (تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟) فرمایا: یہ آپ کے لئے خوشگوار ہے اور اس کا گناہ اس کو ملے گا۔

اور اس حدیث کو امام احمد نے صحیح قرار دیا ہے جیسا کہ ابن رجب نے جامع العلوم والحکم میں نقل کیا ہے ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

11/11/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف