الاثنين 5 صفر 1442 هـ
آخر تحديث منذ 6 ساعة 52 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 5 صفر 1442 هـ آخر تحديث منذ 6 ساعة 52 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

خون بہا کی ادائیگی کے انشورنس کا کیا حکم ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

خون بہا کی ادائیگی کے انشورنس کا کیا حکم ہے؟

تاريخ النشر : 13 شوال 1438 هـ - الموافق 08 يوليو 2017 م | المشاهدات : 580

میرے ایک رشتہ دار نے کسی نوجوان کو کار ایکسیڈنٹ میں مارا جس سے وہ مر گیا، انشورنس کمپنی والوں نے خون بہا میں پوری گاڑی مانگی ہے، یہ بات آپ کے علم میں ہونی چاہئے کہ یہ انشورنس کمپنی ایک تجارتی قسم میں سے ہے اور وہ اجباری ہے، اور میرا رشتہ دار اپنے مال سے اس قدر خون بہا ادا کرنے پر قادر نہیں ہے، لیکن وہ یہ رقم اپنے گھر والوں سے حاصل کر سکتا ہے اور کم ازکم کسی سے ادھار بھی لے سکتا ہے، اب میرا سوال یہ ہے کہ اس ایجنسی والوں نے جو کیا ہے کیا وہ کسی صورت میں جائز ہے؟ اور بہ نسبت کفارہ کے کیا وہ ابھی سے دو ماہ لگاتار روزے رکھے گا یا اس میں تاخیر کرسکتا ہے ، اور کیا اس میں رمضان کے روزے اور عید الفطر بھی شامل ہے، اور روزہ کے بارے میں آپ اس کو کیا نصیحت کریں گے؟

التأمين دفع الدية فما الحكم

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 انشورنس ان عقود میں سے ہے جس کے بارے میں اہل علم کا آپس میں اختلاف ہے اور اکثر علماء کا اس کے بارے میں حرمت کا مذہب ہے، اور بعض علماء کے نزدیک یہ مباح ہے ، اگر آپ کو اس کی حرمت کے بارے میں علم نہیں تھا اور اس میں پڑ گئے ہیں تو پھر آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور انشورنس کمپنی والوں نے جو مال لیا ہے تو آپ کو چاہئے کہ اس سے وہ مال لے کر وہ مال میت کے ورثاء کو دے دیں ، اور جہاں تک مجھے لگتا ہے یہ اس صورت میں حکم ہے جب آپ کو انشورنس پر مجبور کیا گیا ہو۔

باقی رہا کفارے کا سوال تو اگر یہ ایکسڈنٹ حادثہ ڈرائیور کی غلطی اور روڈ قوانین سے تجاوز کرنے کا سرچشمہ ہو تو پھر اس پر کفارہ واجب ہے، جو ایک غلام کو آزاد کرنا ہے، اور اگر اس کی استطاعت نہیں ہے تو پھر دو ماہ لگاتار روزے رکھے ، اور اس میں وہ جب چاہے روزے رکھے جیسا کہ اسے ایسے موسم میں بھی روزے رکھنے کا اختیار ہے جس میں دن چھوٹے اور موسم ٹھنڈا ہوتا ہے، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ قتلِ خطاء میں کفارہ فورا واجب نہیں ہوتا یہ اہل علم کی ایک بڑی جماعت کا قول ہے جن میں احناف ، شوافع اور ایک قول کے مطابق حنابلہ سرفہرست ہیں۔ واللہ أعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

06/09/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف