الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ
آخر تحديث منذ 11 ساعة 56 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ آخر تحديث منذ 11 ساعة 56 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

لفظ "حرام" اور "جائز نہیں ہے" میں کیا فرق ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

لفظ "حرام" اور "جائز نہیں ہے" میں کیا فرق ہے؟

تاريخ النشر : 4 شعبان 1438 هـ - الموافق 01 مايو 2017 م | المشاهدات : 883

کیا لفظ حرام اور لفظ جائز نہیں ہے میں کوئی فرق ہے اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ گناہ مختلف ہوتے ہیں؟ یا ان کا ایک ہی مطلب ہے، کیونکہ بعض کا یہ خیال ہے کہ لفظ جائز نہیں ہے ہلکا ہے لفظ حرام کی بنسبت؟

ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

میں نے اہل علم کا ان دونوں لفظوں یعنی "لا یجوز" اور "حرام" کے استعمال کرنے میں تحقیق کیا ہے، تو مجھے پتا چلا کہ وہ ایسا کوئی فرق نہیں کرتے، کبھی ان کا استعمال حرمت کے بیان کرنے میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ حرام ہے جائز نہیں ہے، یا یہ کہتے ہیں: یہ جائز نہیں ہے حرام ہے، اور کبھی کبھار کسی ایک پر ہی اکتفاء کر لیتے ہیں دوسرے لفظ کی تصریح قریب میں ہی یا دور کرتے ہوئے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لفظ یہ جائز نہیں حرمت کا اورفعل پر اثر مرتب نہ ہونے کا فائدہ دیتا ہے کیونکہ جواز کا مطلب نافذ ہونے کا ہوتا ہے، جبکہ لفظ حرام صرف حرمت کا معنی دیتا ہے، واللہ اعلم

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف