السبت 17 رجب 1442 هـ
آخر تحديث منذ 3 ساعة 1 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 17 رجب 1442 هـ آخر تحديث منذ 3 ساعة 1 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

ایک عام آدمی علماء کے اقوال کے درمیان کیسے ترجیح قائم کرے؟

مشاركة هذه الفقرة

ایک عام آدمی علماء کے اقوال کے درمیان کیسے ترجیح قائم کرے؟

تاريخ النشر : 15 شعبان 1438 هـ - الموافق 12 مايو 2017 م | المشاهدات : 559

ایک عام آدمی ایسے معاملے میں جس میں علماء کا اختلاف ہو اور ترجیح مشکل ہو توکیا کرے، مثلاََ شیخ بن باز کچھ کہتے ہیں اور مختلف دلائل بھی اس بارے میں پیش کرتے ہیں جبکہ امام البانی ؒ اس کے بالکل برعکس فتوی دیتے ہیں اور اس بارے میں وہ اپنے دلائل دیتے ہیں، تو کیا اب ایسے معاملے میں انسان احتیاط والا قول لے یا آسانی والا؟

كيف يرجح العامي بين أقوال العلماء

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 اس بارے میں علماء کے اقوال متعدد ہیں، اور اختلاف ہوا بھی وہاں ہے جہاں کسی بھی وجہ سے ترجیح قائم کرنا مشکل ہو، جیسے دلائل کو دیکھتے ہوئے یا علم تقوی یا دیگر امور کے اعتبار سے مفتی کے حالات دیکھتے ہوئے، حاصل کلام یہ ہے کہ اس مسئلہ میں علماء کے تین اقوال ہیں:

پہلاقول: سب سے زیادہ شدت والا قول لے گا۔

دوسرا قول: سب سے زیادہ سہولت والا قول لے گا۔

تیسرا قول:دو یا دو سے زیادہ اقوال میں اختیار ہے۔

جو مجھے راجح معلوم ہو رہا ہے وہ یہ کہ اگر حالت ایسی ہو جیسے آپ نے ذکر کیا تو عامی آدمی کیلئے یہ ہے کہ وہ اقوال میں سے سب سے زیادہ سہولت والا قول اختیار کرے، کیونکہ شریعت کی بنیاد سہولت پر ہی ہے، فرمان باری تعالی ہے: ((اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے، اور وہ تمہارے ساتھ سختی نہیں چاہتا)) {البقرہ: ۱۸۵} اور نبی کا فرمان ہے: ((مجھے ایسی شریعت دے کر بھیجا گیا ہے جو سیدھی اور آسان ہے)) جیسا کہ مسند احمد میں حضرت عائشہؓ کی حدیث میں آیا ہے ایسی سند کے ساتھ جس میں کوئی حرج نہیں۔

مسند میں ہی صحیح سند کے ساتھ بھی اعرابی والی حدیث موجود ہے جس کا نام نہیں ذکر کیا گیا کہ اس نے نبی کو کہتے سنا: ((تمہارا بہترین دین سب سے آسانی والا ہے))، اور یہ کہ نبی کو جب بھی دو امور میں اختیار دیا جاتا تو ان میں سے آسانی والا اختیار کرتے جیسا کہ صحیحین میں عائشہؓ کی حدیث میں وارد ہوا ہے۔

لیکن ملحوظ یہ رکھنا چاہئیے کہ یہ اس صورت میں ہے جب دو مختلف اقوال سامنے ہوں اور ترجیح قائم نہ کی جا سکتی ہو، تاکہ صورتحال میں تتبع رخص نہ پیدا ہو جائے جس کے عدم جواز پر علماء کا اجماع ہے، بلکہ واجب یہ ہے کہ حسب امکان حق کی اتباع ہو، واللہ اعلم۔

آپ کا بھائی/

خالد بن عبد الله المصلح

04/09/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف