الاثنين 25 ربيع آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 41 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 25 ربيع آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 41 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

کیا اہل سنت کا اجماع شیعہ کے بغیر منعقد ہو جاتا ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

کیا اہل سنت کا اجماع شیعہ کے بغیر منعقد ہو جاتا ہے؟

تاريخ النشر : 15 شعبان 1438 هـ - الموافق 12 مايو 2017 م | المشاهدات : 674

دکتور وہبۃ الزحیلی کے قول کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے کہ اجماع صرف اہل سنت کا بغیر شیعہ مجتہدین کے منعقد نہیں ہوتا؟ اور یہ انہوں نے اپنی کتاب اصول الفقہ صفحہ ۴۴ میں ذکر کیا ہے

هل ينعقد إجماع أهل السنة بدون الشيعة؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 مجھے ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی کے کلام کا علم نہیں ہے اور نہ ہی میرے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس سے مذکورہ سؤال کے بارے میں مراجعت کر سکوں، لیکن مسألہ بالا میں اہل علم جن میں اصولیین اور دیگر شامل ہیں کلام کیا ہے اور محل بحث وہ شخص جس کا اجماع معتبر ہونا چاہئیے اس کے اوصاف کے بارے میں ہے۔

اکثر اہل علم (اصولیین اور فقہاء) کا مذہب یہ ہے کہ اجماع میں فاسق کے قول کا کوئی اعتبار نہیں چاہے اس کا فسق اعتقاد کے اعتبار سے ہو یا افعال کے اعتبار سے۔

اور بہت سے اہل علم نے اعتقادی فسق کی مثال روافض سے دی ہے، مرداوی ؒ اپنی کتاب "التحبیر شرح التحریر" {۴/۱۵۶۰} میں لکھتے ہیں: "فاسق کا قول مطلقاََ شمار نہیں کیا جائے گا چاہے اعتقاد کے اعتبار سے ہو یا افعال کے اعتبار سے۔ اور اعتقادی فسق کی مثال روافض، معتزلہ اور دیگر کی ہے"۔

اور ابن قطانؒ نے کہا ہے:ـ ’’اجماع ہمارے ہاں اہل علم کا اجماع ہے، اور جو اہل ہوی میں سے ہو تو اس کا کوئی دخل نہیں‘‘ یہ بحر محیط {۴/۴۶۸} میں نقل کیا ہے۔

جو مجھے راجح معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ شیعہ کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ استدلال کے اصول میں ہی وہ اہل سنت سے اختلاف رکھتے ہیں، ان اصول میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اجماع کو نہ شمار کرتے ہیں اور نہ ہی اس کو حجت مانتے ہیں۔

اور ابہاج {۲/۲۶۴} میں لکھا ہے: "یہ بات گزر چکی کہ شیعہ اجماع کو جو کہ امت کے مجتہدین کا اتفاق ہے حجت نہیں مانتے"۔

اور یہ سب مذکورہ بحث کا تعلق فروعی مسائل سے ہے، جہاں تک عقائد کی بات ہے تو ان کا کوئی اعتبار نہیں، اگر ایسا ہو تو اہل سنت کا کوئی معاملہ اور ان کا کوئی اجماع معتبر ہی نہ ہو، واللہ اعلم۔

آپ کا بھائی/

خالد بن عبد الله المصلح

06/09/1425هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف